سوال : ذبیحہ (قربانی کے جانور) کے کن اعضاء کو کھانے سے منع کیا گیا ہے؟
جواب : ذبیحہ یعنی ذبح شدہ جانور کے سات اعضاء کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں : مرارہ (پِتہ) مثانہ محیاۃ (شرم گاہ) آلہ تناسل خصیے غدود دم مسفوح (بہتا ہوا خون) حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَکْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا : اَلْمَرَارَة، والْمَثَانَةَ، والْمَحْيَاة، والذَّکَرَ، وَالْاُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّةَ، والدَّمَ، وَکَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مُقَّدَّمُهَا. (طبرانی، المعجم الاوسط، باب الياءِ من اسمهُ يعقوب، 10 : 217، رقم : 9476) ’’حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذبیحہ کے سات اعضاء کو مکروہ شمار کرتے تھے، جو یہ ہیں : مرارہ (پِتہ)، مثانہ، محیاۃ (شرم گاہ)، آلہ تناسل، دو خصیے، غدود اور خون۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بکری کا مقدم حصہ زیادہ پسند تھا۔‘‘
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


