سوال : رمی کا مسنون وقت کون سا ہے؟
جواب: یوم النحر یعنی 10 ذوالحجۃ کو صرف بڑے شیطان کو کنکریوں سے مارنا ہے اور یہ چاشت کے وقت افضل ہے اور باقی 2 یا 3 دن زوال کے بعد سنت ہے، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
رَمٰی رَسُولُ اللہ صلی الله علیه وآله وسلم الْجَمَرَةَ (الْعُقْبهَ) یَوْمَ النَّحْرِ ضُحًی وَأَمَّا بَعْدُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر جمرۃ عقبہ (بڑا شیطان) کو چاشت کے وقت کنکریاں ماریں اور اس کے بعد تینوں شیطانوں یعنی دوسرے اور تیسرے دن زوال کے بعد کنکریاں ماریں۔‘‘
مسلم، الصحیح، کتاب الحج، باب بیان وقت استحباب الرمی، 2: 945، رقم: 1299
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


