سوال : مُستجَاب کسے کہتے ہیں؟
جواب : رکنِ یمانی اور رکن اَسود کے درمیان جنوبی دیوار ہے۔ یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لئے مقرر ہیں۔ اس لئے اس کا نام مستجاب رکھا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
وُکِّلَ بِه يعنی بِالرُّکْنِ الْيمَانِي سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ فَمَنْ قَالَ : اللَّهمَّ إِنِّی أَسأَلُکَ الْعَفْوَ (والعافية) فِی الدُّنْيا وَالآخِرَة، رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْيا حَسَنَة وَفِی الْآخِرَة حَسَنَة وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، قَالُوْا : آمين.
(ديلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 110، رقم : 7332)
’’رکن یمانی پر ستر ہزار فرشتے تعینات ہیں، پس جو کوئی بھی وہاں یہ دعا پڑھتا ہے : ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ،‘‘ تو وہ آمین کہتے ہیں۔‘‘
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


