سوال نمبر 57 : زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
جواب : زکوٰۃ کے نصاب کی کم از کم مقدار ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہے جو سال کے جمع شدہ مال پر اڑھائی فیصد کی شرح سے مقرر کی گئی ہے۔ یہ مال کی کم سے کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ کی فرضیت عائد ہوتی ہے۔ اس سے انکار انسان کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے اور اس سے پہلو تہی مسلمان کے ایمان و اسلام کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے۔ 1. شرنبلالی، نور الإيضاح، 1 : 147 2. زحيلی، الفقه الاسلامی و ادلته، 2 : 733 3. جزيری، کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة، 1 : 958 ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَاٰتُوا الزَّکٰوة. ’’اور زکوٰۃ دیا کرو۔‘‘ البقره، 2 : 43 وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُ الزَّکٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ. ’’اور نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔‘‘ البقرة، 2 : 277
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


