سوال نمبر 81 : کیا کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرنا جائز ہے؟
جواب : دین اسلام میں کسی قسم کے جبر، سختی اور تنگی کا کوئی تصور نہیں کیونکہ ہر شخص کو شعور کی دولت سے نواز کر یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھتے ہوئے اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرے۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے : لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ. ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے۔‘‘ البقره، 2 : 256 ایک اور مقام پر ارشاد ہوا : وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِo ’’اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئےo‘‘ البلد، 90 : 10 اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اپنی زندگی کا راستہ منتخب کرنے کے لئے واضح رہنمائی عطا کر دی ہے۔ لہٰذا کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ جبر و زیادتی سے اپنا راستہ اور طریقِ زندگی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرے، ہاں البتہ حکمت، تبلیغ اور تلقین سے کسی کو قائل کر لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


